Showing posts with label | Politics Articles |. Show all posts
Showing posts with label | Politics Articles |. Show all posts

سب کھول دوں گا



جب بھٹو صاحب بڑے متحرک تھے۔

بھارتی ایٹمی آبدوزوں

میڈاِن رشیا بھارتی آبدوز نے آگ پکڑ لی جس کے نتیجے میں اٹھارہ سیلرز آبدوز کے اندر ہی

بلوچستان اسمبلی کا مستقبل؟ نون لیگ کی شکست


سیاست کے کھیل بھی خوب ہیں۔جمہوریت کا حسن بھی لاجواب ہے۔ شکست ہوجائے تو جمہوری عمل قرار پاتا ہے اور فتح کی صورت تو جمہوریت کی فتح ہوتی ہی ہے۔بلوچستان میں نون لیگ کی حکومت کو جو رسوائی اور پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے

پیٹ کے غبار آخر پھٹ پڑے


 میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری یہ دونوں حضرات آخر پھٹ پڑے ان کے اندر جو غبار کی ہوا بھری ہوئی تھی ان کے اپنے ہی پیٹ کے غبارے پھٹ پڑے

امریکی دھمکیاں اور جماعۃالدعوۃ کیخلاف کاروائی


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کیخلاف بے بنیاد الزام تراشی کرتے ہوئے دھمکی آمیز پیغام جاری کیا ہے کہ امریکہ نے پندرہ سال

امریکی صدر کا ٹویٹ اور مسلم قوم


دوہزار سترہ کاسورج بھی کئی نشیب فراز کے مناظر دیکھاتا ہواہم سے جدا ہوگیا نئے سال کا سورج اس امید کے ساتھ طلوع ہو ا کہ ہم ماضی کے غلطیوں اور کوتاہیوں سے سبق سیکھتے ہوئے نئے سفر کا آغاز کریں گے سال بدل گیا مگر حالات نہ بدلے سال2017 ء گزرگیا 2018ء کا سفر شروع ہو گیابالکل اسی طرح مہنگائی ،بے روز گاری ،فاقہ کشی ،ظلم و ستم ،اور پھر نئے سال کا تحفہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جو کہ سراسر نا انصافی اورعوام کے ساتھ زیادتی ہے،ابھی تو نئے سال کا نیا سورج طلوع بھی نہیں ہوا تھا کہ سلطنت عباسیہ نے اوگرا کی سفارش پر پٹرولیم اور اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کردیا جس سے مہنگائی کا جن بوتل سے آزاد ہوکر عوام کو زندہ ہی کھا جائے گا خیر یہ تو ہمارے ملکی حالات ہے جو کہ بدلتے نظر نہیں آتے ،مگر یہ دعا ضرور ہے کہ ا ﷲ پاک قائد اعظم محمد علی جناح جیسا حکمران پیدا کرے ،قائد اعظم محمد علی جناح جیسے حکمران کی ضرورت ہے جس نے دو قومی نظریہ کو پاکستان کی بنیاد بنا کر دیگر کارکن کے ساتھ آزادی دلائی ،وہ دیانت ،صداقت ،امانت اور اخلاق کا پیکر تھے اور یہی اوصاف تھے جن کی وجہ سے پوری مسلم قوم نے ان پر اعتماد کیا انہیں یقین تھا کہ ان کا قائد کبھی دھوکہ نہیں دے گا اور قائداعظم محمد علی جناح نے بھی لوگو ں کے اعتماد پر پورا اتر کر دیکھایا ،مگر اب کے حکمرا ن کوئی اپنی سیاست چمکانے کے چکر میں ہے ،کوئی اپنی دولت بچانے کے چکر میں ہے تو کوئی اپنی کرپشن چھپانے کے چکر میں ہے ،وہ قائد اعظم محمد علی جناح ہی تھے جن کی بدولت آج ہم ایک آزاد ملک میں ایک آزاد شہری کی حیثیت سے باوقارطریقہ سے زندگی کے شب و روز بسر کر رہے ہیں ،مگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے اور بھی مسلمان بہن بھائی ،مائیں ،بیٹیاں،بزرگ ہیں جو کہ ظلم وستم کا نشانہ بن رہے ہیں جو کہ آزادی کو ترس گئے ہیں ،کشمیر،شام ،فلسطین میں مسلسل مسلمان ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں ،اب جمو ں وکشمیر کو ہی دیکھ لیں،جمو ں وکشمیر ظلم و ستم کی ایسی نظر بن چکا ہے جہا ں کی مٹی کا کو ئی ایسا ٹکڑا نہیں جس شہید کا خون شامل نہ ہو،وہاں کوئی ندی نالہ ایسا نہیں بہتا جس میں کشمیری مسلما نوں کا خون نہ بہتا ہو ،وادی کا کوئی ایسا گھر نہیں جس میں کوئی مسلمان شہید نہ ہوا ہواور کوئی ایسا شخص زندہ نہیں جو غاصب فوج کے تشدد کا شکار نہ ہوا ہو ،بچوں کی قربانیاں دیکھیں تو واقعہ کربلا یاد آتا ہے ،ہندوکے تمام تر ظلم اور درندگی کے باوجود کشمیری مسلمان آج بھی یک زبان ،یک جان ہو کر سبز ہلالی پرچم ہاتھو ں میں لیکر پاکستان زندہ باد کے کے نعرے لگا رہے ہیں پیلٹس اور گولیوں کا جواب پتھر سے دیتے ہیں نوجوان سڑکوں پر ہیں ان کی مائیں بہنیں جو کہ ہماری بھی مائیں بہنیں ہیں ان کی پشت پر ہیں اور طالبات بھی بستے پھینک کر سنگ بازوں کے سڑکوں پر ہیں ،ہندو کا منحوس وجود کسی قیمت جنت نظیر جمو ں کشمیر میں قبول نہیں،انہوں نے اپنے جذبوں سے آزادی کی ایسی تحریک برپا رکھی ہے جو کہ دنیا کی تاریخ میں شائد اس کی کوئی مثال ملنا مشکل ہو جائے ،کشمیری مسلمانوں نے تو استقامت کی نئی نئی داستانیں رقم کر دیں مگرپھر بھی کشمیر کے مسئلہ پر عالمی ضمیر کیوں بیدار نہیں ہوتا ،کیو ں جموں و کشمیر میں ہندو کے ظلم و ستم پر ہم تمام مسلمان نا بینا بنے ہوے ہیں ،دیکھتی آنکھوں سے تمام مسلم قوم کیو ں خاموش ہے ،انسانی حقوق کے علمبرداروں کی نظر کشمیری مسلمانوں کی طرف کیو ں نہیں جاتی ،جو ہمارے بہن بھائی،بیٹیا ں ،مائیں ،بزرگ ظلم وستم کا نشانا بن رہے ہیں ان کیلئے تو نیاء سال نئے زندگی تب ہو گی جب وہ بھی ظلم و ستم سے آزاد ہونگے ،مگر ان کے حق میں آواز اٹھانا بھی نئے سال کے گفٹ جیسا ہی ہے ،ہمارے حکمرانوں کو چاہیئے کہ کچھ دیر کیلئے اپنے مسلے مسائل بھول کر ان کے بارے بھی سوچیں اور ان کے لیئے بھی کچھ کریں اور آؤ ہم سب بھی مل کر دعا کریں کہ اﷲ پاک تمام سلمانوں کو ظلم و ستم سے نجات عطاء فرمائیں اور ہماری طرح آزادی دے ،نئے سال کے آغاز پہ ہی امریکی صدر کے ٹویٹ نے وطن عزیز میں ایک طوفان برپا کردیا ہے ٹرمپ اپنے ٹویٹ میں کہتے ہیں ’’ہم نے پاکستان کو 33ارب ڈالر کی امداد دیکر بیوقوفی کی اور پاکستان نے ہمیں دھوکہ دیا‘‘اس ٹویٹ سے ہر محب وطن کو دکھ ہوا ہے کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے ہم غیروں کی جنگ میں اپنا بے بہا نقصان اٹھا چکے ہیں ہمارے ہزاروں معزز شہری اور عسکری نوجوان جام شہادت نوش فرماچکے ہیں پراؤں کی جنگ میں ہم نے دہشت گردی کا سامنا کیا ،دہشت گردی کا نشانہ بنے اور بن رہے ہیں اس کے باوجود ہمیں ہی آنکھیں دکھائی جارہی ہیں ’’انکل سام ‘‘ سن لو تمہارے اس ٹویٹ نے مسلم قوم کو پھر سے بیدار کر دیا ہے مسلم قوم متحد ہے حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ ساتھ پاکستان قوم ایک پیج پہ متحد ہوکر تمہاری گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والی نہیں تم صرف دھمکی دینا جانتے ہوجبکہ مسلم مجاہدطوفانوں سے ٹکرانا اور اپنے وطن پہ جان نثار کرنا بھی جانتا ہے-

کشمیر۔۔۔شہ رگ یا اٹوٹ انگ۔۔۔؟


پاکستان میں تمام ایسی سیاسی جماعتیں جن کی سیاسی بقا کشمیر کارڈ سے وابستہ ہے ان سب کی مشترکہ کوششوں اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی بدولت یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔

آزاد کشمیر میں لوڈشیڈنگ کی شدت اور محنت کشوں کی مشکلات ؟

          آزاد کشمیر میں لوڈشیڈنگ کی شدت اور محنت کشوں کی مشکلات ؟                            


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کشمیر پالیسی اور

گلے انتخابات میں ہمیں اپنے ووٹ سے درست جمہوریت کا انتخاب کرنا ہوگا


دنیا بھر کی عوام اپنے لیے حکمران چنتے سے قبل اپنے سیاسی لیڈروں کی پالیساں منشور اور قابلیت کو پیش نظر رکھ کر اپنا ووٹ کاسٹ کرتی ہیں۔ تاکہ ملک میں حقیقی عوامی جمہوریتوں کا قیام ہوسکے۔ جمہوریتوں کے ثمرات اقوام کو پہنچے۔ اقوام کے مسائل حل ہو۔اقوامیں خوشحال رہیں۔ جمہوریت کا مطلب ہی اعوامی حکومت ہیں لیکن جمہوریت میں عوام کو کچھ ملتا ہی نہیں۔

لیکن ہمارے یہاں معاملہ اسکے برعکس ہے۔ وطن عزیز کی عوام ابھی تک شعور و آگہی سے محروم ہیں۔ کہ وہ اپنے لیے جس جمہوری پارٹی کو اپنے لیے منتخب کررہی ہیں۔ وہ اسکے لیے بہتر ثابت ہوگی یا نہیں۔ جمہوری حکومت منتخب کرنے سے قبل سیاسی پارٹیوں کا منشور اور انکا مشن دیکھا جاتا ہے۔ کہ فلاں پارٹی کی خارجہ معاشی پالیسیاں کیا ہے کہ آیا فلاں سیاسی جماعت کا منشور کیا ہے۔مشن کیا ہے۔ بر سر اقتدار کے بعد حکومت اپنے منشور کے تحت کام کریں گی۔ یا نہیں 

پاکستان میں کئی جمہوریتں آکر چلی گئیں کئی آمریت بھی آکر چلی گئیں۔ اب پاکستان میں مشرف دور کے بعد جمہوری سلسلہ چل رہا ہے۔ پی پی پی کی حکومت کے بعد ایک اور جمہوری حکومت ن لیگ کی چل رہی ہے۔ تو ان دو جمہوری حکومتوں کے دور میں ملک اور عوام نے کیا پایا کیا کھویا۔

کیا ان جمہوری حکومتوں میں ملک سے غربت بے روزگاری پانی بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگوں اور بحرانوں کا خاتمہ ہوگیا۔ کیا غریب عوام کو ان جمہوری حکومتوں میں مہنگائی ٹیکسوں کے عذاب سے نجات مل گی۔ کیا عوام کے تمام مسائل حل ہوگے۔ کیا ملک کو بیرونی قرضوں سے نجات مل گئیں۔ ملک سے پشماندگی خواندگی غربت افلاس اور مسائل کا خاتمہ ہوگیا۔ 
کیا ن لیگی حکومت نے عوام سے کیے گیے وعدے پورے کردیے۔
یہ جو بڑے گرج کر بولتے ہیں دونوں بھائی میاں صاحب انکے چھوٹے میاں صاحب کہ ہم ایک سال میں ملک سے لوڈ شیڈنگ اور بحرانوں کا خاتمہ کردے گے۔ ساڑھے چار سال سے زاہد اپنی حکومت کے کرلیے آج تک ملک سے لوڈ شیڈنگ اور بحرانوں کا خاتمہ نہیں کرسکے۔

فیصلہ عوام کے ہاتھوں میں ہوتا ہیں۔ کہ عوام کسی بھی پارٹی کو منتخب کرنے سے پہلے پارٹی کے منشور مشن کو سمجھے کہ جس پارٹی کا ہم انتخاب کررہے ہیں۔ اس پارٹی نے اپنے منشور کے تحت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ماضی میں ملک و قوم کے لیے کیا کیا؟ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دیا نہیں ملک سے بحرانوں کا خاتمہ کیا نہیں پانی بجلی گیس کی فراہمی کو عوام کے لیے موثر کار بنایانہیں ۔ عوام سے کیے گیے وعدے اور دعوے پورے کیے نہیں؟ ۔ 

تو کیوں عوام نے ن لیگ کو تیسری بار منتخب کیا۔ 
ماضی میں ن لیگ حکومت نے ملک و عوام کے لیے کچھ نہیں کیا تو اب کیا کرلیا۔ پہلے سے زیادہ ملک کو قرضوں میں جکڑ دیا۔ تمام مسائل جوں کے توں ہیں۔سب سے بڑھ کر دوباره اقتدار کے حصول کے لیے ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کر ڈالی اب شديد عوامی دباؤ کے تحت معاملہ دبا لیا۔ 
تحریک لبیک یا رسول اللہ نے ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے دھرنا دیا تو حکومت نے دھرنے کو سیاسی قرار دے کر چڑھائی کردی۔ جس پر حکمرانوں کو منہ کی کھانی پڑی ن لیگ حکومت نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے وہ کام کر ڈالے جو پہلے کسی سابق جمہوری اور آمرانہ حکومتوں نے بھی نہیں کیے۔

نواز شریف خود کو نظریہ کہے رہیں ہیں۔ پر پتہ نہیں چل رہا کہ یہ کونسا نظریہ ہے اور کیسا نظریہ ہے۔ انکا نظریہ اپنی ذات اور مفاد کے لیے ہے۔ میاں صاحب اپنے اندر جھانک کر نہیں دیکھتے دوسروں میں تانک تانک کر جھانکتے ہیں. جبکہ ضرورت میاں صاحب کو اپنے اندر جھانکنے کی ہے۔ ملک کا بیڑا غرق کرنے پر نکالا تو کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا۔ ن لیگ سارے اچھے کاموں کا کریڈٹ اپنے سر لیتی ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی قوت میزائل قوت بننے گوادر پورٹ بننے کا کریڈٹ اپنے نام کرتی ہیں۔ جبکہ پوری قوم جانتی ہیں۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی میزائل تنصیبات کی بنیاد محترمہ بے نظير بھٹو نے اور ایٹمی قوت ہمارے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بنایا۔ گوادر پورٹ پرویز مشرف نے اپنے دور میں مکمل کرایا۔ ن لیگ نے پاکستان کے لیے کیا بنایا؟

ن لیگ نے ڈالر کم ہونے پر خوب کریڈٹ سمیٹا ڈالر دوباره مہنگا ہونے کا ذمہ دار کون؟ پٹرول سستا ہونے پر خوب اشتہار بازی کیں۔ پٹرول دوباره مہنگا ہونے کا ذمہ دار کون؟
اگر غلطی سے کچھ بہتر ہوجائے سرا ن لیگ کے سر اور ساری خرابیوں کی ذمہ دار سابقہ
حکومتیں ہیں۔ یہ میرا قارئین سے سوال ہیں۔ ؟ 
یہ کیسے جمہوری لیڈر ہیں جنہوں نے ملک اور عوام کے لیے مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔ پورے ملک کو مسائلستان بنا رکھا ہے

حقیقی جمہوری لیڈر وہ ہوتے ہیں. جو عوام کے لیے وسائل پیدا کرتے ہیں۔ وسائل کی کمی کے باوجود ملک اور عوام کو مشکلات کے بھنور سے نکالتے ہیں۔ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ اور ایسے لیڈروں کو منتخب کرنے کی ذمہ داری عوام کی ہوتی ہیں۔ ہم تبدیلی چاہتے ہیں۔ مگر ہم ستر سالوں سے سیاسی شعور کا مظاہرہ نہیں کررہے تو پھر ہم ملک میں تبدیلی بھی نہیں لا سکتے۔
ہم با حثیت قوم اپنے ووٹ کا درست استعمال نہیں کرتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم انتخابات کے دن ووٹ ڈالنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے۔ تو پھر ہم ملک میں تبدیلی بھی نہیں لا سکتے۔ پھر یہی سسٹم چلتا رہے گا۔ پھر یہی چند عاقبت نا اندیش کرپشن زده خاندانی افراد اس ملک کے حاکم بنتے رہے گے۔ یہ حکمران جو آج ہم پر مسلط ہیں۔ یہ ہماری کوتاہیوں غلطیوں اور اعمالوں کا سبب ہیں۔

یاد رہے ملکی تقدیر کا فیصلہ عوام کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ کیونکہ عوام ہی ملکی ترقی کا ضامن ہوتی ہیں۔ جب تک ہم اپنے ووٹ درست استعمال نہیں کریں گے۔ یہی حکمران باری باری غریب ہاریوں اور اقلیتوں کے ووٹوں سے چہرے بدل بدل کر یونہی اقتدار پر براجمان ہوتے رہے گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اگلے انتخابات میں اپنے گھروں سے نکلنا ہوگا۔ اپنے ووٹوں سے درست جمہوریت کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ملکی تقدیر کو بدلنا ہوگا۔ جب ہی ہمیں اس فرسوده جمہوری نظام سے نجات مل سکتی ہیں۔
 

ڈو مور نو مور


دنیا کا عجب دستور ہے، کسی کی مدد کرو اور سمجھو کہ اس کو تو ہم نے خرید لیا ہے، اب ہم رات کو دن کہیں تو وہ بھی دن کہے، ہم دن کو رات کہیں تو وہ بھی رات کہے۔

شاید امریکا بھی کچھ ایسی غلط فہمی کا شکار ہے۔ امریکا کے محترم صدر صاحب کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو 15 سال میں 33 ارب دیئے اور پاکستان نے ہمیں بے وقوف بنایا۔ ناجانے کیوں مجھ ناچیز کو ایسا لگا کہ امریکا کے صدر نے اپنے آپ کو اور امریکا کو بے وقوف کہا یعنی جو لوگ سوپر پاور کہلاتے تھے آج بے وقوف کہلائے گئے۔وہ ملک جو اپنے آپ کو سوپر پاور کہتا ہے اس کو اگر وہ ملک بے وقوف بنا دے جس کو وہ کچھ نہیں سمجھتا ، پھر کچھ یوں معلوم ہوتا ہے کہ شاید امریکا نے آج سوپر پاور ہونے کا جواز ہی کھو دیا۔

جس کو آپ غلام سمجھتے تھے آج اس کو دھمکی دینے کی نوبت آجائے تو شاید آپ کمزور ہوگئے ہیں، جو لوگ آپ کی بات مانا کرتے تھے آج بات نہیں مان رہے تو شاید آپ کمزور ہوگئے ہیں، جب آپ کے ڈو مور کے جواب میں کوئی نو مور کہہ جائے تو شاید آپ کمزور ہوگئے ہیں۔

اب بات دھمکیوں سے نہیں آپ کے ڈو مور سے بنے گی۔ اب آپ کو اپنی باتوں اور اپنے ارادوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دھمکیوں سے آپ کی بات مان لی جائے گی تو جان لیں ! "یہ قوم جاگ چکی ہے، اب یہ قوم جھکنے والی نہیں جھکانے والی ہے، کٹنے والی نہیں کاٹنے والی ہے۔"

اگر بات ظلم کی ہوگی فقط آپ کے مفاد کی ہوگی، تو پاکستان کو آپ اپنے مخالف ہی پائیں گے اور اگر بات خطے میں امن و سلامتی کی ہوگی، تو پاکستان کو آپ اپنے ساتھ پائیں گے۔

آئیں ہم آپ کو خطے میں امن کی دعوت دیتے ہیں، آپ اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرلیں پھر پاکستان ہی نہیں پوری امتِ مسلمہ آپ کےساتھ کھڑی ہوگی۔

مسنتد بدنیتی


کچھ لوگوں کی تو قسمت میں ہی رسوائیاں لکھ دی جاتی ہیں۔ بھاگ دوڑ بڑی کرتے ہیں پر راہیں ملتی ہیں نہ منزل۔ساری عمر بھٹکنا ان کے مقدرمیں لکھ دیا جاتاہے۔کچھ لوگوں کی قسمت تو ایسی نہیں ہوتی مگر شیطان انہیں بھٹکا کر ادھر لے آتاہے۔ایسی فریب کاری دکھاتاہے کہ سچ۔ایماندار اور خلوص کا راستہ ترک کرکے یہ کوئی شارٹ کٹ تلاش کرتے ہیں۔محنت اور دشواریوں سے بھاگتے یہ لوگ شیطان کے ہاتھوں اتنا کھیل جاتے ہیں کہ انہیں اپنا نائب قراردینا شیطان کے لیے بھی قابل فخر ہوجاتاہے۔ایسے لوگوں کی خدا داد تیزیاں جب شیطانی تربیت پاتی ہیں تو سونے پر سوہاگہ والی بات ہوجاتی ہے۔سیاسی میدان میں اس طرح کے بدنیتوں کا آجانا ریاست کے وجود کے لیے بھی خطرہ بنتاہے۔اور قوم کی اجتماعی بے راہ روی کا باعث بھی بنتاہے۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی طرف سے عوامی تحریک کی اے پی سی میں فوری دھرنے او راستعفوں کی تجویز کو پذیرائی نہ مل سکی۔عوامی تحریک کی آل پارٹی کانفرنس میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی طرف سے یہ تجویز دی گئی تھی کہ سات جنوری کو لاہور جام کردیا جائے اور دھرنا دیا جائے۔مذید یہ کہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے پارلیمنٹ کی جماعتیں استعفے دے دیں۔شیخ صاحب کی تجویز نہیں مانی گئی۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اے پی سی میں شریک دوسری جماعتوں کوعوامی مسلم لیگ سے زیادہ پذیرائی حاصل ہے۔اس اے پی سی اے میں مدعو کی جانے والی قریبا تمام پالیمانی جماعتیں شریک تھی۔اس میں تحریک انصاف بھی شریک تھی۔اور پیپلز پارٹی بھی۔ان دونوں جماعتوں کے ماضی قریب میں علامہ طاہر القادری سے اختلاف رہے ہیں۔رائے ونڈ مارچ کے دوراں عوامی تحریک او رتحریک انصاف کے درمیان بڑی توتکار بھی ہوئی تھی۔عمران خاں صاحب نے رشتہ لینے جانے والی بات بھی انہی دنوں کی تھی۔جس کا علامہ طاہر القادری کی جانب سے سخت برا منا یا گیا۔پی پی سے بھی عوامی تحریک کی قیادت کے تعلقات کچھ زیادہ اچھے نہیں۔پیپلز پارٹی سے متعلق علامہ صاحب اتنے فتوے دے چکے تھے۔کہ اس جماعت کی شرکت کا امکان نہ تھا۔مگر نوازشریف کو کسی نہ کسی طریقے سے چت کرنے کی مجبور ی زرداری صاحب کو اس اے پی سی میں نمائندے بھیجنے کی راہ دکھاگئی۔شیخ رشید کی تجاویز کس طرح پزیرائی پا سکتی تھیں۔اس اے پی سی میں سبھی ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔شیخ صاحب کی اس آفر کو بھی قابل ذکر نہ سمجھا گیاکہ اگر پارلیمانی جماعتیں استعفے دینے کا فیصلہ کرتی ہیں تو سب سے پہلے وہ اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔

زرداری اور نوازشریف دور میں مقتدر حلقو ں کی ساکھ بڑی متاثر ہوئی ہے۔دونوں ادوار میں ان قوتوں کا متضاد اور منفی رویہ ان کی ساکھ کو چاٹ گیا۔زرداری دور میں کاروبار حکومت کے لیے جو اوٹ پٹانگ مینجمنٹ ہوئی۔اس نے قوم اور ریاست کو مذا ق بنا کررکھ دیا۔بجائے تدبر اور حکمت سے معاملات نبٹانے کے ہیراپھیری اور بارگین سے کام لیا گیا۔جنا لچا اونہا اچاکا فلسفہ چار سو نظر آیا۔سپریم کورٹ نے اگر کسی کو مجرم ثابت ہونے پر سزادی تو عجب معاملہ ہوا۔یا تو اس مجرم کو اس سے زیادہ منفعت بخش کھاتے پر ایڈ جسٹ کروادیا گیا۔دوجے اگر کسی عہدے سے کسی کو عدالت نے کسی غلط کاری پر نکالا تو اس عہدے کے لیے قدرے زیادہ بدنام تلاش کیا گیا۔مقدر حلقوں کی ایسے دور میں خاموشیوں کو مفنی قراردیا جاسکتاہے۔یوں لگاجیسے کسی کو نہ ریاست کے وجود کی فکر ہے۔نہ عوام کے لٹ جانے کادکھ۔یہی قوتیں نوازشریف دورمیں اپنی خاموشیاں توڑ گئیں۔خاموشیاں بھی ٹوٹیں اور ہر طریقے سے حکومت کو محدود اور مسدود کرنے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔نوازشریف دور میں حالات بہتری کی طرف جاتے نظر آرہے تھے۔ریاست کا احترام بڑھا اور عوام کو آسانیاں مہیا ہوئیں۔مگر جانے کیوں کچھ لوگ اس حکومت کو گھر بھجوانا فرض عین سمجھتے رہے۔ دہشت گردی کا جن قابومیں آگیا۔لوڈشیڈنگ ختم کردی گئی۔عالمی سطحی پرپاکستان کو ایک ذمہ دار مملکت تسلیم کرلیا گیا۔ان سب کے باوجود مقتد ر حلقوں کی بے چینیاں عجب ہیں۔زرداری دور میں جب کہ ریاست بے آبرو تھی۔عوام بے حال تب تو یہ حلقے چپ رہے۔اب جبکہ حالات بہتری کی طرف جاتے نظر آرہے ہیں کچھ لوگ آپے سے باہر ہور ہے ہیں۔

شیخ رشید کودھرنا دینے اور پارلیمانی جماعتوں کے استعفے دیے جانے کی بڑی جلدی ہے۔شیخ رشید صاحب اسیے تمام اطراف کا دفاع کرنے پر بضد ہیں۔جہاں جہاں سے نوازشریف کو چھیڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔شیخ صاحب ایسے تما م حلقوں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔جانے شیخ صاحب کی قسمت میں یہ منفی انداز سیاست لکھ دیا گیا ہے۔یا وہ کسی شیطانی چنگل میں جا پھنسے ہیں؟ ان کی دھرنااور استعفے فوری دینے کی تجاویز مستر دکردیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ابھی پارلیمنانی جماعتوں نوازشریف مخالفت میں آخری حد تک جانے پر آمادہ نہیں۔شیخ صاحب کو اس اختلاف پر افسوس ہے۔جانے وہ کیوں آخری حد تک جانے پر بضد ہیں؟ رانا ثنااللہ نے انہیں مستقلا پنڈی کا شیطان قراردے رکھا ہے۔جانے کیوں شیخ صاحب آخری حد تک جانے کی ضد اپنا کر مستند بد نیت ثابت ہونا چاہ رہے ہیں؟

ٹرمپ کی نئی دھمکی اورہماری تھالِ سیاست کے بیگن

سیاسی تھالی کے بیگن کالے سفیدہرے اورجامنی ، ہمیں ٹرمپ کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیناہوگاورنہ؟

ایک طرف خبطی امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ہے جو کہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا کراپنی جان چھڑاناچاہ رہاہے جس کے لئے یہ ہمیں دھمکیوں پہ دھمکیاں دیئے جارہاہے اور ہمیں اپنی جنگ میں جھونک کر اپنی سُبکی مٹانا چاہ رہاہے جبکہ اِدھر ہماری تھالِ سیاست کے چار بیگن کالے سفید ہرے جامنی اور لمبے موٹے گول اور چھوٹے یعنی نواز،زرداری ،عمران اور قادری یہی تو وہ چار عناصر ہیں جنہوں نے اپنی غیرسنجیدہ سیاسی شغل مستی سے مُلکی سیاست کو سرپر اُٹھا کر سارے مُلک میں ایک عجیب و غریب بھونچال پیداکررکھاہے یہ اِس طرح اگلے الیکشن میں بازی لے جا نے کے لئے بھی کمر بستہ ہیں اور تھالِ سیاست میں یہ سارے بیگن اپنے انداز سے اِدھر اُدھر ڈھنگ(ڈول) رہے ہیں ، آج عالمِ بے خودی میں یہ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں، آستینیں چڑھا کر آمنے سامنے کھڑے ہورہے ہیں ،سرپھوڑ رہے ہیں، گربیان پکڑرہے ہیں، برداشت کی حدوں کو پھلانگ رہے ہیں، لڑنے مر نے کو بھی تیار ہیں ،ماضی میں ایک دسرے کو کبھی بھی برداشت اور چہرہ نہ دیکھنے والے بغل گیر ہورہے ہیں، اگلا الیکشن جیتنے کے لئے نئے سیاسی اتحاد بن رہے ہیں پرا نے ٹوٹ رہے ہیں،ایک سے مل کر دو ہو رہے ہیں تو دوسے تین بننے کا سلسلہ ہنوزجاری ہے یہ سب محض ایک کو گرا نے اور دوسرے ا ونچا اُٹھا نے کے لئے ہورہاہے کو ن نہیں جا نتا ہے کہ تھالی کے بیگن یا بیگنوں کی تو فطرت اور خصلت ہی ایسی ہوتی ہے کہ یہ جس تھال میں ہو تے ہیں اپنے مفادات میں اِدھر اُدھر لُولڑکھتے ڈولتے (ڈھنگتے) ہی رہتے ہیں اِن دِنوں اِسی لئے تو مُلکِ پاکستان میں تھالِ سیاست کے چاربیگن اپنی مستیوں میں مگن ہیں اور ایک دوسرے کی ٹا نگ کھینچنے میں لگے ہو ئے ہیں۔

حالانکہ ہماری مغربی اور مشرقی سرحدوں پرہمارا دُشمن جنگ کی تیاریاں کئے بیٹھا ہے مگر اندرونی اور بیرونی خطرات سے غافل ہما رے حکمران اور سیاستدان اِس حال میں بھی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کئے ہوئے ہیں جبکہ وقت آگیاہے کہ تھالِ سیاست کے تمام سیاسی کالے ہرے سفید جامنی اور موٹے گول لمبے چھوٹے بیگنوں اورہماری برف سے زیادہ ٹھنڈی اور مرچ سے زیادہ ترش کڑوی عوام اورہمارے قومی اداروں کو نفسیاتی جنونی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہیجانی کیفیت کوسمجھتے ہوئے پاکستان کو مسلسل ملنے والی خطرناک انجام کی دھمکیوں پر ایک صفحہ پر آنا ہوگا ورنہ ۔۔۔؟ ہمار ے حصے میں سوا ئے کفِ افسوس کہ شاید کچھ نہیں آئے گا۔ جبکہ اُدھرنئے سال 2018ء کے پہلے ہی روز خبطی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے نومور کے جواب میں پوری قوت کے ساتھ ڈومور کی ایک اور دھمکی داغ دی ہے جس کا کہنا ہے کہ’’ پاکستان نے امریکا کو جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا ہے، 15سال میں 33ارب ڈالر کی امداد دی، مگر اِس کے بدلے پاکستان نے امریکا کے لئے کچھ نہیں کیا ہے،پاکستان اپنے یہاں دہشت گردوں کو پنا ہ دیتا ہے اَب ایسا نہیں چلے گا ‘‘۔

بہر کیف ،جس انداز سے دیوانہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کویہ دھمکی دے رہا تھا اِس بار اِس کا لہجہ بہت سخت تھا دنیا نے دیکھا کہ جب بھا رتی یاراور ہندوستا نی پٹھو اور افغانستان کے عاشق ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ سے پاکستان کے لئے دھمکی آمیز یہ جملے اداہو رہے تھے اِن جملوں کے ساتھ اِس کے منہ سے غصے کی وجہ سے جھا نک بھی نکل رہے تھے یہ سب کہتے ہو ئے یہ بلکل پاگل اور دیوا نہ لگ رہاہے تاہم ٹرمپ کا غصہ بے معنی ہے اِسے پاکستان کو اپنی جنگ کا حصہ بننے کے لئے ڈومور کی دھمکی دینے کے بجا ئے ٹھنڈے دل و دما غ سے ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے اپنا احتساب کرنا چا ہیئے تھا معاف کیجئے گا مگر یہ اِس سے عاری ہے مگر دنیا ٹرمپ کو پاکستان کے خلاف کو ئی انتہا ئی قدم اُٹھا سے پہلے اِس خبطی کو یہ ضرور بتا دے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا اور اتحادی افواج سے کہیں زیادہ جا نی اور مالی نقصان پاکستان کا ہوا ہے تمہارے 33ارب ڈالر کی امداد کی حیثیت پاکستان کی قربانیوں کے سامنے کچھ نہیں ہے یہ تو پاکستان کا ہی اعلیٰ ظرف ہے کہ یہ ابھی تک خا موش تھا مگر تمہاری بار با ر کی ڈومور کی ضد اور ہٹ دھرمی کے جوا ب میں پاکستان نے اپنا بند منہ کھولنا شروع کیاہے اَب جس کا پاکستان ہر فورم اور دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر گردن تان کر اور سینہ پھولا کر جوا ب دے گا اور ڈومور کا مطالبہ کرنے والے امریکا کو نو مور کا منہ توڑ جوا ب دے کر اِس کی اصلیت بھی دنیا کے سامنے کھول کھول کربیان کرے گاتا کہ امریکی ہٹ دھرمی اور ضد سے دنیا کو آگاہی حاصل ہو اور لگ پتہ جا ئے کہ دنیا کا دہشت گردِ اعظم شیطان الستاد روئے زمین پر امریکا ہے جو امداد اور قرضے دے کر پاکستان جیسے دنیا کے غریب ممالک کی مجبوریاں خریدتا ہے اوراِنہیں( مجبوروں کو) کیسے دھمکیاں دے کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔اِس منظر اور پس منظر میں جب جنونی امریکی صدر نے تازہ ایک اوردھمکی پاکستان کو دی ہے آج جس کی دھمکی پر ڈرتے ڈرتے ہی سہی ہما رے حکمران سیاستدان اور عسکری قیادت کسی حدتک ضرور مطمئن دِکھا ئی دیتے ہیں اور ٹرمپ کی ہر دھمکی کو خندہ پیشا نی سے برداشت کرتے ہوئے اِس کی اگلی پچھلی تمام دھمکیوں کا جوا ب دینے کے لئے جواز تیار کئے ہو ئے ہیں (آخر کب تک)یہ خاموش رہیں گے َ؟ اور امریکا کو کب منہ کھول کر جوا ب دیں گے؟ آج جس کا پوری پاکستا نی قوم کو بڑی بے چینی سے انتظار ہے ۔ ہاں ، البتہ، چلیں یہ بہت اچھا ہوا ہے کہ آج پہلی بار امریکی صدر خبطی ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی دھمکی پر امریکی سفیر کو دفترخارجہ طلب کرلیاگیا او ر امریکی سفیر سے ٹرمپ کی دھمکی پر سخت ترین ردِ عمل کا بھی اظہار کیا گیا اور ساتھ ہی یہ بھی باور کردیا گیا بلکہ یہ بھی امریکی سفیر کو بتادیاگیاہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی نئی دھمکی پر ریاست پاکستان کے تمام ریاستی ادارے اور سول اور عسکری قیادت ایک پیچ پر ہے اور امریکی صدر کے پاکستان کو نئی دھمکی کے خلاف شدید احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مُلک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے رابطہ کرکے ایک اہم اجلاس مدعو کیا جس میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے باہم متحد و منظم ہو کرٹرمپ کی دھمکی پر اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کرکے یہ میسج دیا کہ امریکا یہ گمان نہ کرے کہ پاکستانی قوم اور قومی ادارے اپنے سیاسی اور فروعی اور ذاتی اختلافات کی وجہ سے منتشر ہیں ایسا نہیں ہے ہم اپنی بقا اور خودمختاری اور سا لمیت کے لئے کل بھی ایک پیچ پر تھے اور آج بھی ایک پیچ پر ہیں امریکا سمیت کسی نے بھی پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھا تو آنکھ نکالی جا ئے گی ۔اگرچہ اِس میں شک نہیں ہے کہ ٹرمپ اپنی افغان جنگ کی شکست کا بدلہ پاکستان پر الزا م تراشیاں کرکے اور ہولنا ک انجام کی دھمکیاں دے کر پاکستان کو دبا ؤ میں لانا چا ہتا ہے جیسا کہ یہ ماضی میں بھی کیا کرتا تھا اور ہم بکری کے بچے کی طرح بڑی معصومیت سے اِس کی دھمکیوں میں آر بَلی چڑھ جا یا کرتے تھے مگر اَب ایسا نہیں ہوگا جیسا کہ امریکا ہم پر اپنی مرضی چلا کر ہمیں اپنے اُلٹے سیدھے مفادات کے لئے بکرے کی ما نند پکڑ کر ذبح کردیا کرتا تھابہت ہو گئی ہے ہم امریکی دھمکیوں میں آن کر اپنا بہت کچھ تباہ و برباد کرچکے ہیں آخر کب تک ہم ایسا کرتے رہیں گے ؟ اورہم امریکی دبا ؤ اور دھونس دھمکی کی وجہ سے اِس کی جنگ کا حصہ بن کر اپنا سبق کچھ تباہ وبرباد کرتے رہیں گے؟ (ختم شُد)